نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلسی گیبرڈ کا الزام: کیا پاکستان کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟

تلسی گیبرڈ کا پاکستان مخالف بیان: مکمل تجزیہ
تحریر: محمد طارق | شائع کردہ: 20 مارچ 2026
تلسی گیبرڈ کا پاکستان مخالف بیان: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں پاکستان کو امریکہ کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیے جانے کی حقیقت، پاکستانی ردعمل اور ماہرین کے تجزیے۔

تلسی گیبرڈ کا الزام: کیا پاکستان کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟

امریکی قومی انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گیبرڈ نے 19 مارچ 2026 کو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں پیش کی جانے والی "سالانہ خطرات کی رپورٹ" میں پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا جو روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ امریکہ کے لیے "میزائل خطرہ" بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو براعظمی فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت (ICBM) حاصل کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ گیبرڈ نے خبردار کیا کہ 2035 تک امریکہ کو لاحق میزائل خطرات میں ڈرامائی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس بیان نے بین الاقوامی تعلقات میں ہلچل مچا دی اور پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

دیکھیے: تلسی گیبرڈ کے بیان کی مکمل ویڈیو
ماخذ: یوٹیوب | تلسی گیبرڈ کا سینیٹ میں خطاب (19 مارچ 2026)

امریکی رپورٹ کے اہم نکات

تلسی گیبرڈ کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے میزائل پروگرام کو جدید بنا رہا ہے، خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر توجہ مرکوز ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہ میزائل براعظمی فاصلے (5,500 کلومیٹر سے زائد) حاصل کر لیتے ہیں تو وہ امریکہ کے بعض حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل شاہین-III تقریباً 2,750 کلومیٹر تک مؤثر ہے، جو پورے ہندوستان کو کور کرنے کے لیے تو کافی ہے لیکن امریکہ تک پہنچنے کے لیے نہیں۔ رپورٹ میں ہندوستان کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس پر ماہرین نے امریکی موقف کو "انتخابی" قرار دیا۔

پاکستان کا سرکاری ردعمل

دفتر خارجہ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد خودمختاری کا تحفظ ہے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں "کم سے کم قابل بھروسہ ڈیٹرنس" کے اصول پر استوار ہیں اور اس کی رینج براعظمی سطح سے بہت کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی امریکہ یا کسی اور مغربی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی پروگرام تیار نہیں کیا۔ سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بھی اس بیان کو "اسٹریٹجک حقیقت سے جدا" قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان کا ایٹمی نظریہ صرف ہندوستان کے لیے ہے۔

ہندوستان کا ردعمل اور علاقائی تناظر

ہندوستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر تنقید کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "پاکستان کی تاریخ خفیہ ایٹمی پھیلاؤ سے بھری ہوئی ہے"۔ ہندوستانی میڈیا نے اس رپورٹ کو پاکستان کی عالمی دہشت گردی میں مبینہ کردار کی تصدیق کے طور پر پیش کیا۔ دوسری جانب، پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہندوستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں (جیسے اگنی-VI) کو نظر انداز کر کے دوہرا معیار اپنا رہا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

عالمی امور کے مبصرین کے مطابق، تلسی گیبرڈ کا بیان نیا نہیں ہے بلکہ دسمبر 2024 میں پاکستان کی نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس پر امریکی پابندیوں کا تسلسل ہے۔ ماہر اسٹریٹجک امور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ "یہ رپورٹ دراصل امریکہ کی اپنی دفاعی لوابی کے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کے پاس آج بھی ایسی صلاحیت موجود نہیں جو امریکہ کو براہ راست خطرہ ہو۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کا اصل مقصد پاکستان کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک امریکہ تعلقات میں معمولی بہتری دیکھی گئی تھی۔ گزشتہ سال پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار اور آرمی چیف کی وائٹ ہاؤس ملاقاتوں کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک نئے سرے سے تعاون شروع کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس رپورٹ سے فوری طور پر تعلقات خراب ہونے کا امکان تو نہیں، لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر امریکی تحفظات مزید گہرے ہو جائیں گے۔ پاکستان نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ "تعمیری مذاکرات" جاری رکھے گا۔

فوائد / مثبت پہلو

  • پاکستان کو اپنے دفاعی پروگرام کی وضاحت کا موقع ملا۔
  • عالمی برادری میں پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنے کا موقع۔
  • امریکہ کے دوہرے معیار (ہندوستان کو نظر انداز کرنا) بے نقاب ہوئے۔
  • پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف (منفی طور پر ہی سہی)۔
  • پاکستانی عوام میں قومی یکجہتی میں اضافہ۔

نقصانات / منفی پہلو

  • پاکستان کی ساکھ پر منفی اثر، عالمی میڈیا میں "خطرہ" کے طور پر پیش کیا گیا۔
  • امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے نئی پابندیوں کا خطرہ۔
  • پاکستان کے دفاعی بجٹ پر اضافی نظرثانی کا دباؤ۔
  • پاک امریکہ تعلقات میں عارضی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
  • ہندوستان کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا موقع ملا۔
قارئین کا پول: کیا آپ تلسی گیبرڈ کے بیان کو درست سمجھتے ہیں؟
بالکل درست، پاکستان کا میزائل پروگرام خطرناک ہے 18%
بے بنیاد الزام، پاکستان صرف دفاعی صلاحیت رکھتا ہے 64%
امریکہ کو ہندوستان پر بھی نظر رکھنی چاہیے 12%
کوئی رائے نہیں / مزید تحقیق طلب 6%
یہ پول 2,500 سے زائد قارئین کی رائے پر مبنی ہے (تخمینی)
اس موضوع سے مزید:
Tulsi Gabbard Pakistan US News Missile Program ICBM Pakistan US Relations Defense Intelligence Report Tulsi Gabbard Statement South Asia Nuclear Deterrence India Reaction Foreign Office Senate Hearing Geopolitics Breaking News Pakistan Army Strategic Affairs US Politics Current Affairs

تبصرے

مشہور خبریں

🔥 ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ: 28 فروری سے 19 مارچ 2026 تک مکمل تفصیلات

پی ایس ایل 11 کا مکمل شیڈول جاری: آٹھ ٹیمیں، 44 میچز، چھ شہر - 2026کا میلہ

پاکستان کی معیشت کے مسائل اور ان کا حل ، مکمل گائیڈ

🗺️ Ask Maps AI فیچر: گوگل میپس میں انقلاب

امریکہ کا KC-135 طیارہ تباہ

Iran's IRGC claiming to have launched the "37th wave" of attacks

⚡ ایران ۔ اسرائیل ۔امریکہ

🧪 PFAS - پانی میں چھپا وہ قاتل جسے کوئی نہیں دیکھتا

5G سپیکٹرم کی نیلامی کی مکمل تفصیلات جانئے اس خبر میں

🧠 NVIDIA GTC 2026 مستقبل کی ٹیکنالوجی کا