غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مکمل واقعہ، تاریخِ شہادت، وجوہات، اور ان کی عظیم قربانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔ مستند حوالوں کے ساتھ
غزوہ احد میں سید الشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت
تعارف:
حضرت امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا، رضاعی بھائی اور اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے۔ آپ کی شجاعت اور بے خوفی کی وجہ سے آپ کو "اسد اللہ" (اللہ کا شیر) اور "سید الشہداء" کے لقب سے نوازا گیا۔ 3 ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر آپ کو شہادت کا عظیم مرتبہ ملا۔
تاریخِ شہادت:
· 3 شوال 3 ہجری (مطابق مارچ 625 عیسوی)
· مقام: پہاڑِ احد، مدینہ منورہ
شہادت کا المناک واقعہ:
غزوہ احد میں کفارِ قریش نے بدلۂ بدر کے جذبے سے جنگ شروع کی۔ مسلمانوں کی ابتدائی فتح کے بعد تیراندازوں کی غلطی نے صورتِ حال پلٹ دی۔ اس موقع پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نہایت دلیری سے لڑ رہے تھے۔
انہیں شہید کرنے کی ذمہ داری لے کر آنے والا غلام وحشی بن حرب تھا، جسے ہندہ بنت عتبہ (ابوسفیان کی بیوی) نے اپنے باپ اور بھائی کے بدلے کی خواہش پر آمادہ کیا تھا۔ وحشی نے اپنی نیزہ پھینکنے کی مہارت سے آپ کو شہید کر دیا۔
شہادت کے بعد وحشی نے نیزہ نکال لیا، اور ہندہ نے آپ کے جسمِ مطہر کو شہید کرنے کی انتہا کردی — جگر چبایا، ناک اور کان کاٹے۔ نبی کریم ﷺ جب وہاں پہنچے تو آپ کا دل مبارک غم سے بھر گیا۔ آپ نے فرمایا:
"آج مجھ سے زیادہ کوئی غمزدہ نہیں۔"
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت:
· نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی: "اللہم ارحم حمزہ" (اے اللہ حمزہ پر رحم فرما)۔
· آپ کو غزوہ احد میں 70 سے زیادہ نیزوں اور تلواروں کے وار لگے۔
· رسول اللہ ﷺ نے انہیں "سید الشہداء" کا خطاب دیا۔
· غزوہ بدر میں آپ نے کفار کے دو بڑے سردار عتبہ اور شیبہ کو قتل کیا۔
شہادت کے بعد کیا ہوا؟
شہادت کے بعد آپ کو اور دیگر شہداء کو اُسی میدانِ احد میں دفن کیا گیا۔ آج یہ مقام "شہداء احد" کے نام سے زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور بہت آنسو بہائے۔
ہمارے لیے سبق:
1. دین کی سربلندی کے لیے قربانی — حضرت حمزہ نے اسلام کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
2. دشمنی کا انجام — وحشی اور ہندہ نے دنیا میں رسوائی پائی، لیکن بعد میں وحشی نے اسلام قبول کر لیا۔
3. جہاد میں مستقل مزاجی — ابتدائی فتح کے بعد محتاط رہنا بھی ضروری ہے۔
4. نبی کریم ﷺ کی محبت — آپ نے ہر مصیبت میں رسول اللہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
اختتام:
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہمیں بے مثال بہادری، استقامت اور اللہ و رسول کی محبت کا پیغام دیتا ہے۔ آج 3 شوال کو ان کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں دین کی سربلندی کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار رہیں۔
اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تحریر از محمد طارق

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں