عراق کا ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد پہلا بڑا حملہ ✌️ امریکی وکٹوریہ بیس پر ڈرون سے ریڈار اور بلیک ہاک تباہ، مسلم ممالک کا اتحاد اللہ کا خاص کرم
عراق کا ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد پہلا بڑا حملہ ✌️ امریکی وکٹوریہ بیس پر ڈرون سے ریڈار اور بلیک ہاک تباہ
عراق نے 25 مارچ 2026 کو وکٹوریہ ایئر بیس (بغداد) کے اندر جدید ڈرون استعمال کرتے ہوئے امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایران کے ساتھ مشترکہ جنگ میں شمولیت کے بعد سب سے بڑی اور کامیاب قرار دی جا رہی ہے۔ حملے میں AN/MPQ-64 ریڈار سسٹم اور UH-60M بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ مزید برآں، مغربی ممالک میں جنگ پر پھوٹ کے درمیان مسلم ممالک کا یکجا ہونا امت مسلمہ کے لیے اللہ کا خاص کرم تصور کیا جا رہا ہے۔
📖 فہرست مضامین (TOC)
🚁 حملے کی تفصیلات اور امریکی فضائی صلاحیتوں کو نقصان
25 مارچ 2026ء کو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل وکٹوریہ بیس کمپلیکس (ویکٹوریہ ایئر بیس) پر عراقی مزاحمتی گروپس نے جدید ترین FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرون استعمال کیے۔ یہ ڈرون انتہائی نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے امریکی دفاعی نظام کی حدود کو عبور کر گئے۔
حملے میں دو اہم ترین اثاثے تباہ ہوئے: پہلا AN/MPQ-64 "سینٹینیل" ریڈار سسٹم جو فضائی نگرانی اور بیلسٹک دفاع کا مرکزی جزو تھا، اور دوسرا ایک UH-60M بلیک ہاک ہیلی کاپٹر (US16M) جو جدید ترین طیارہ شمار کیا جاتا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق ریڈار سسٹم مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو گیا جبکہ بلیک ہاک کے ملبے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ امریکی فوج کے نگرانی فضائی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی، اور نیٹو نے اگلے دنوں میں عراق سے اپنے تربیتی مشن کے اہلکار واپس بلا لیے۔
⚖️ عراق کا سرکاری موقف — خود دفاع کا قانونی حق
24 مارچ 2026ء کو عراقی حکومت نے باضابطہ طور پر "عوامی تحریک فورسز" (PMF) اور مسلح گروپس کو امریکی اور اسرائیلی اہداف پر حملہ کرنے کا اختیار دیا۔ یہ فیصلہ اس سے قبل امریکی/اسرائیلی طیاروں کی جانب سے عراقی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد سامنے آیا۔ عراق کی پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کے دفتر نے اسے "خود دفاع کا آئینی حق" قرار دیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب عراق نے ایران کے ساتھ مشترکہ جنگ میں واضح طور پر شامل ہونے کے بعد کسی امریکی اڈے کے اندر اتنی بڑی کارروائی کی۔ عراقی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ "عراقی سرزمین پر قبضہ کرنے والی افواج کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت جائز ہے"۔ یہ بیانیہ خطے میں نئی جہت لے کر آیا۔
🤝 مسلم ممالک کا یکجا ہونا — اللہ کا خاص کرم ✨
جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر مغربی ممالک (برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ کے اندرونی حلقوں) میں سیاسی پھوٹ اور عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، وہیں مسلمان ممالک میں غیر معمولی یکجہتی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایران، عراق، یمن (انصار اللہ)، شام، لبنان کی مزاحمتی قوتیں اور متعدد عرب ممالک نے امریکی جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔
یہ اتحاد صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں براہِ راست تعاون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ صورت حال اللہ کا خاص کرم قرار دی جا رہی ہے کہ امت مسلمہ اپنے اختلافات بھلا کر دشمنِ واحد کے خلاف صف آرا ہے۔ علما اور مفسرین کے مطابق یہ قرآن کی پیش گوئی کا عملی مظہر ہے کہ مومنین آپس میں رحم دل اور باہم متحد ہوتے ہیں۔
⚡ فوری حقائق (Quick Facts Box)
- تاریخ حملہ: 25 مارچ 2026
- مقام: وکٹوریہ ایئر بیس، بغداد
- ہتھیار: FPV ڈرون / کامیاز ڈرون اسکواڈ
- نشانہ: AN/MPQ-64 ریڈار + UH-60M بلیک ہاک
- نتیجہ: ریڈار سسٹم تباہ، ہیلی کاپٹر مکمل طور پر جل کر خاکستر
- عراقی ردعمل: خود دفاع کا قانونی اختیار، کھلی جہاد کی اجازت
- نیٹو کا اقدام: عراق سے تربیتی مشن کا خاتمہ، اہلکاروں کی واپسی
- مسلم اتحاد: ایران، عراق، یمن، محورِ مزاحمت یکجا
📊 فوائد و نقصانات: اس کارروائی کے اثرات
✅ فوائد (مزاحمت اور امت کے لیے)
- امریکی غلبہ کو چیلنج، عراقی خودمختاری کا اظہار
- مسلم ممالک میں یکجہتی مضبوط، اسلامی بیداری میں اضافہ
- امریکی اثاثوں کو مالی اور تزویراتی نقصان، نیٹو کا انخلاء
- مقبوضہ علاقوں میں مزاحمتی گروپس کے حوصلے بلند
- عوام میں امریکہ مخالف جذبات کی شدت، بین الاقوامی پریشر میں اضافہ
⚠️ نقصانات / چیلنجز
- امریکی جوابی حملے کا خدشہ، عراقی شہریوں پر ممکنہ فضائی بمباری
- علاقائی عدم استحکام میں اضافہ، اقتصادی دباؤ
- بعض مغربی ممالک کی پابندیاں عراق پر مزید سخت ہو سکتی ہیں
- داخلی عراقی سیاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا امکان
🛡️ امریکی ردعمل اور اتحادیوں کی صورتحال
وکٹوریہ بیس حملے کے بعد پینٹاگون نے ابتدائی طور پر حملے کی تصدیق تو کی لیکن جانی نقصان سے انکار کیا۔ تاہم امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ سینٹینیل ریڈار اور بلیک ہاک جیسے اعلیٰ اثاثوں کا نقصان "خطے میں امریکی فضائی برتری کے لیے ایک بڑا دھچکا" ہے۔ برطانیہ اور فرانس نے اپنے شہریوں کو عراق سے انخلا کی ہدایت کی۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے الرٹ جاری کر دیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد عراقی مزاحمت کے سامنے پسپائی اختیار کر رہا ہے۔
🌍 مغربی ممالک میں پھوٹ: عوامی احتجاج اور سیاسی بحران
غزہ جنگ اور اب عراق میں براہ راست تصادم نے مغربی ممالک کے اندر گہری پھوٹ ڈال دی ہے۔ امریکہ کے متعدد شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے "اسرائیل کے ساتھ اتحاد ختم کرو" کے نعرے لگائے۔ برطانیہ اور فرانس کی پارلیمنٹس میں حکومتوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس مسلم ممالک میں عوام اپنی حکومتوں پر مزید سخت موقف اختیار کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس دوگانے نے بین الاقوامی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔
❓ اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
جی ہاں، 24 مارچ 2026 کو عراقی حکومت نے تحریکِ عصائب اہل الحق اور دیگر گروپس کو امریکی اڈوں پر حملے کی اجازت دی، جسے وہ "خود دفاع" کہتے ہیں۔
اب تک امریکہ نے محدود فضائی پٹرولنگ بڑھائی ہے، لیکن کوئی بڑا جوابی حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔ عراقی حکومت نے مزید حملوں کی وارننگ دے دی ہے۔
ایران، عراق، شام، یمن (انصار اللہ)، لبنان کی حزب اللہ اور حماس نے امریکی-اسرائیلی محاذ کے خلاف مشترکہ آپریشن روم قائم کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ متعدد ممالک نے سرکاری طور پر اپنی افعال یکجا کی ہیں۔
نیٹو نے اپنے مشن "NATO Mission Iraq" کو عارضی طور پر معطل کر دیا اور بیشتر اہلکار واپس بلا لیے، جسے عراقی مزاحمت کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
🔮 نتیجہ: مزاحمت کا نیا دور اور امت مسلمہ کا مستقبل
عراق کا وکٹوریہ بیس پر ڈرون حملہ خطے میں طاقت کے پرانے مساوات کو تبدیل کر گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی اڈے کے اندر ریڈار اور بلیک ہاک جیسے اثاثے ڈرون کے ذریعے تباہ ہوئے اور امریکی دفاعی نظام ناکام رہا۔ عراق کے سرکاری طور پر جنگ میں شامل ہونے کے بعد یہ پہلا بڑا حملہ ہے جس نے مزاحمتی محور کو نئی توانائی دی ہے۔
دوسری جانب مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور مسلم ممالک کا غیرمعمولی اتحاد اس بات کی علامت ہے کہ امت مسلمہ ایک نئے سیاسی اور عسکری دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ وحدتِ صف اور مشترکہ جذبہ جہاد اس وقت جلوہ گر ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکی ردعمل اور مزاحمتی کارروائیوں کی شدت اس جنگ کی سمت طے کرے گی۔
© 2026 پاکستان ٹائمز — مکمل حقائق، بروقت تجزیہ۔ تمام خبریں تصدیق شدہ ذرائع پر مبنی ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں