بین الاقوامی قانون مردہ؟ عباس عراقچی کا متنازع بیان اور دوہرے معیار کی سیاست
تحریر: محمد طارق | اشاعت: 26 مارچ 2026 | 15 منٹ ریسرچ بیسڈ تجزیہ
🔴 تعارف: وہ بیان جس نے ہلچل مچا دی
24 مارچ 2026 کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک ٹویٹ (X پوسٹ) میں کہا: “بین الاقوامی قانون عملی طور پر مردہ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی طاقتیں غزہ، یوکرین اور ایران کے خلاف جارحیت میں یکساں قانون کا اطلاق نہیں کرتیں۔ عراقچی نے خاص طور پر جرمن صدر فرانک والٹر سٹائن مائر کے اس مؤقف کی تعریف کی جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی" قرار دیا۔ یہ بیان محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ عالمی نظام میں قانون کی بالادستی پر ایک گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ خبر مکمل طور پر مستند ہے اور اس کی تصدیق ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے کی ہے۔ آئیے اس موضوع کو تمام پہلوؤں سے سمجھتے ہیں۔
📜 پس منظر: بین الاقوامی قانون کی 'موت' کیوں زیر بحث ہے؟
فروری 2026 سے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان براہ راست فوجی تصادم جاری ہے۔ اس دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی فوجی تنصیبات پر متعدد حملے کیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی شکایت کے باوجود مغربی ممالک نے سخت کارروائی سے گریز کیا۔ دوسری جانب یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی ممالک نے فوری پابندیاں عائد کیں اور بین الاقوامی عدالت میں کیسز دائر کیے۔ عراقچی کے مطابق یہ "دوہرا معیار" بین الاقوامی قانون کے بنیادی تصور کو تباہ کر رہا ہے۔
انہوں نے لکھا: "غزہ پر بمباری خاموشی سے دیکھی گئی، عراق پر حملے کو 'سیلف ڈیفنس' کا نام دیا گیا، لیکن جب ایران اپنے دفاعی اقدامات کرے تو اسے دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔"
⚖️ دوہرا معیار — تاریخی اور حالیہ مثالیں
عراقچی کے دلائل کو سمجھنے کے لیے چند نمایاں واقعات کا جائزہ ضروری ہے:
- امریکی حملہ عراق 2003 — اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر کیا گیا لیکن اسے "ضروری دفاع" کہہ کر پیش کیا گیا، کوئی سخت پابندیاں نہیں لگیں۔
- غزہ جنگ (2023-2024) — اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے باوجود مغربی ممالک کی جانب سے سخت سفارتی کارروائی محدود رہی۔
- یوکرین جنگ (2022-تاحال) — روس پر فوری اقتصادی پابندیاں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں گرفتاری کے وارنٹ، اور واضح سیاسی مذمت۔
- ایران پر حملے (2026) — امریکہ-اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف براہ راست کارروائی پر صرف چند ممالک نے قانونی خلاف ورزی کا ذکر کیا۔
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ بین الاقوامی قانون کا اطلاق جغرافیائی سیاست اور اتحاد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ یکساں اصولوں پر۔
🌍 عالمی ردعمل: The Elders اور دیگر اداروں کی رائے
عباس عراقچی کا بیان صرف ایران تک محدود نہیں رہا۔ عالمی سطح پر دی ایلڈرز (The Elders) نامی تنظیم جس میں کوفی عنان، میری رابنسن جیسی شخصیات شامل تھیں، نے مارچ 2026 میں کہا: "بین الاقوامی قانون کو انتخابی طور پر نافذ کرنا اس کی روح کے خلاف ہے۔ مغربی رہنماؤں کا یوکرین میں فوری ردعمل اور ایران پر خاموشی عدم اعتماد کو فروغ دے رہی ہے۔" جنوبی افریقہ، برازیل اور چین جیسے ممالک نے بھی عالمی نظام میں یکساں قانون کے اطلاق پر سوال اٹھائے ہیں۔
“اگر طاقتور ممالک کے خلاف قانون بے اثر ہو تو کمزور ریاستیں بین الاقوامی نظام سے باہر اپنی حفاظتی حکمت عملی اپنائیں گی — یہ سب کے لیے خطرناک ہے۔” — ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز، تہران یونیورسٹی
📊 فوائد و نقصانات: کیا بین الاقوامی قانون ختم ہو جانا خطرناک ہے؟
✅ ممکنہ فوائد (بیان کے حامیوں کے مطابق)
- حقیقت پسندانہ نقطہ نظر — دنیا کو قانونی پرفارمنس کے بغیر حقیقی طاقت کے توازن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- غیر مغربی ممالک خود مختار دفاعی اقدامات میں مزید آزاد ہوں گے۔
- اقوام متحدہ کی اصلاحات پر دباؤ بڑھے گا، ممکنہ طور پر زیادہ مساوی نظام بن سکتا ہے۔
⚠️ نقصانات اور خدشات
- کمزور ممالک کے خلاف جارحیت میں اضافہ ہو گا — کوئی حد بندی نہیں رہے گی۔
- انسانی حقوق کی بین الاقوامی حمایت کمزور ہو جائے گی، شہری زیادہ خطرے میں ہوں گے۔
- چھوٹی ریاستوں کے پاس شکایت کا کوئی فورم نہیں بچے گا، 'جنگل کا قانون' غالب آ جائے گا۔
🔎 تحقیقی جائزہ: انتخابی انصاف یا ساختی ناکامی؟
متعدد قانونی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی قانون کبھی بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے ممالک اپنے مفادات کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ 2025 میں ہارورڈ لا ریویو کی ایک تحقیق کے مطابق 1990 سے 2025 کے دوران سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال 80 فیصد ان معاملات میں ہوا جہاں مغربی اتحاد کے خلاف کارروائی تجویز تھی۔ دوسری طرف عالمی جنوب کے ممالک کے خلاف فوری قراردادیں منظور کی گئیں۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں عملی طور پر اس تضاد کو اجاگر کیا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مکمل طور پر قانون کا خاتمہ بین الاقوامی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا درمیانی راستہ یہ ہے کہ بین الاقوامی اداروں کو جمہوری اور شفاف طریقے سے ازسرنو تشکیل دیا جائے۔
❓ اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
🏁 نتیجہ: کیا کوئی امید باقی ہے؟
عباس عراقچی کا بیان محض ایک سیاسی حملہ نہیں بلکہ عالمی نظام میں قانون کی بالادستی پر ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی ہے۔ جب تک اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) ساختی طور پر ویٹو پاور اور جغرافیائی مفادات سے آزاد نہیں ہو جاتے، 'انتخابی انصاف' کا مسئلہ برقرار رہے گا۔ بہر حال قانون کی موت کا مطلق مطلب یہ نہیں کہ کوئی ضابطہ باقی نہیں رہا۔ درحقیقت عالمی جنوب اب نئے فورمز اور علاقائی تعاون کے ذریعے متبادل قانونی فریم ورک پر کام کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی نظام یا تو اصلاح کرے گا یا مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔
تحریر از محمد طارق — یہ تجزیہ معتبر ذرائع، سرکاری بیانات اور بین الاقوامی قانونی رپورٹس پر مبنی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں