مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کے تیسرے سپریم لیڈر کا تعارف
مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کے تیسرے سپریم لیڈر کا فائل
تعارف
8 مارچ 2026 کو، ایران کی ماہرین اسمبلی (آئینی طور پر سپریم لیڈر کا تقرر کرنے والی 88 رکنی باڈی) نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ۔ 56 سالہ مجتبیٰ اس عہدے پر فائز ہونے والے ایران کے تیسرے شخص ہیں، جو 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل مشترکہ فضائی حملے میں اپنے والد، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں ۔ ان کا انتخاب ایسے نازک ترین وقت میں ہوا ہے جب ایران پر مسلسل فوجی حملے جاری ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے ۔ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ان کا خاندان تہران منتقل ہو گیا ۔ ان کی اہلیہ، زہرا حداد عادل، قدامت پسند سیاستدان غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں، جو 28 فروری کے حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں ۔ اس حملے میں مجتبیٰ کے علاوہ ان کی والدہ، بہن، بہنوئی اور بھتیجے بھی شہید ہوئے تھے ۔
تعلیم اور فوجی خدمات
مجتبیٰ نے ابتدائی تعلیم تہران کے علوی اسکول سے حاصل کی ۔ نوعمری میں، 1980 کی دہائی کے اواخر میں، انہوں نے ایران عراق جنگ میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا اور پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی ۔ 1999 میں وہ قم شہر گئے اور وہاں کے مشہور دینی مدارس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں نامور علما جیسے آیت اللہ مصباح یزدی شامل تھے ۔
سیاسی کردار اور اثر و رسوخ
اپنے والد کی زندگی میں، مجتبیٰ نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی انہوں نے کوئی عوامی تقریر کی ۔ تاہم، وہ "پردے کے پیچھے" انتہائی بااثر سمجھے جاتے تھے۔ افشا شدہ امریکی سفارتی کیبلز میں انہیں "ردا کے پیچھے کی طاقت" (the power behind the robes) قرار دیا گیا تھا ۔
وہ اپنے والد کے قریبی معاون اور "گیٹ کیپر" کے طور پر کام کرتے تھے، اور اہم ریاستی امور کو سنبھالنے میں ان کی مدد کرتے تھے ۔ ان کے پاس متعدد صدور، فوجی کمانڈروں اور پاسداران انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کی قاسم سلیمانی اور حسن نصراللہ جیسی شخصیات کے ساتھ بھی روابط تھے ۔
عالمی ردعمل اور چیلنجز
مجتبیٰ کی قیادت کا آغاز انتہائی کشیدہ صورتحال میں ہوا ہے۔ اسرائیل نے ان کے انتخاب کے فوراً بعد "کسی بھی ایرانی رہنما کو نشانہ بنانے" کی دھمکی دی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے انتخاب کو "ناقابل قبول" قرار دیا ہے ۔ دوسری جانب، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مبارکباد دی ہے اور یقین دلایا ہے کہ روس "ایران کا قابل اعتماد ساتھی" رہے گا ۔ ایران میں پاسداران انقلاب نے فوری طور پر نئے سپریم لیڈر سے بیعت کر لی ہے ۔
نتیجہ
ایک ایسے وقت میں جب ایران کو شدید بیرونی خطرات کا سامنا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای ایک بااثر مگر عوامی نظر نہ آنے والے شخصیت سے ملک کے سب سے طاقتور مذہبی و سیاسی رہنما بن گئے ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران کی پالیسیوں کے تسلسل کی توقع کی جا رہی ہے، جو مغرب کے ساتھ سخت گیر مؤقف اور "مزاحمتی محاذ" کے ساتھ گہرے تعلقات پر مبنی ہے ۔

Comments
Post a Comment