انسانی حقوق کی تنظیم کا الزام: اسرائیل نے لبنان کی آبادی پر غیر قانونی طور پر سفید فاسفورس بم گرائے




تاریخ: 11 مارچ 2026



انسانی حقوق کی تنظیم کا الزام: اسرائیل نے لبنان کی آبادی پر غیر قانونی طور پر سفید فاسفورس بم گرائے


ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے کی رہائشی آبادی پر سفید فاسفورس بم گرائے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔


نیویارک میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ یہ واقعہ 3 مارچ 2026 کو اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے یوہمور (Yohmor) میں رہائشی علاقوں پر توپ خانے سے سفید فاسفورس کے گولے داغے ۔


واقعہ کی تفصیلات اور تصدیق


ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، انہوں نے اس واقعے کی سات سے آٹھ تصاویر کی تصدیق اور جیو لوکیشن کی ہے، جو ظاہر کرتی ہیں کہ:


· سفید فاسفورس کے گولے رہائشی علاقے کے اوپر فضا میں پھٹے ۔

· ان دھماکوں کے بعد سول ڈیفنس کی ٹیموں کو کم از کم دو گھروں اور ایک کار میں لگنے والی آگ کو بجھانا پڑا ۔


تنظیم نے ان تصاویر میں دھوئیں کے منفرد انداز کو M825-series 155mm آرٹلری پروجیکٹائل سے خارج ہونے والے سفید فاسفورس کے "کنکل" (knuckle) سے مماثل قرار دیا، جو اس ہتھیار کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے ۔


سفید فاسفورس: تباہ کن اثرات


سفید فاسفورس ایک کیمیائی مادہ ہے جو آکسیجن کے ساتھ ملتے ہی بھڑک اٹھتا ہے اور انتہائی بلند درجہ حرارت پر جلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں:


· یہ انسانی جسم کی کھال کو جلا کر ہڈیوں تک پہنچ سکتا ہے ۔

· اس سے لگنے والی جلدی زخموں کا علاج انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ تب تک جلتا رہتا ہے جب تک آکسیجن تک اس کی رسائی ختم نہ ہو ۔

· بچ جانے والے افراد اکثر مستقل معذوری اور طویل المدتی طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔


ہیومن رائٹس واچ میں لبنان کے محقق، رمزی قیس نے کہا، "رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے سفید فاسفورس کا غیر قانونی استعمال انتہائی تشویش ناک ہے اور اس کے شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ سفید فاسفورس کے آگ لگانے والے اثرات موت یا ایسی ظالمانہ چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں تاحیات اذیت برداشت کرنی پڑتی ہے" ۔


بین الاقوامی قانون اور موقف


بین الاقوامی قانون کے تحت آبادی والے علاقوں میں سفید فاسفورس کا استعمال ممنوع ہے۔


· کنونشن آن کنونشنل ویپنز (CCW) کا پروٹوکول III آگ لگانے والے ہتھیاروں کے استعمال کو ریگولیٹ کرتا ہے اور شہریوں کے درمیان موجود فوجی اہداف کے خلاف ان کے استعمال سے منع کرتا ہے ۔

· تاہم، اسرائیل اس پروٹوکول کا دستخط کنندہ نہیں ہے، اس لیے وہ اس پابندی کا پابند نہیں ہے ۔ اس کے باوجود، ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت آبادی والے علاقوں میں اس طرح کے ہتھیار کا استعمال "بلاامتیاز حملہ" تصور کیا جائے گا اور یہ قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے ۔


اقوام متحدہ (UN) نے بھی ان رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے اسے "انتہائی تشویشناک" قرار دیا ۔


اسرائیلی مؤقف اور ردعمل


اسرائیلی فوج نے ان الزامات پر ابتدائی طور پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے میڈیا بریفنگ میں ان رپورٹس کے بارے میں جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس سے "واقف نہیں" ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اور ہمارے پاس بہت درست گولہ بارود اور بہترین انٹیلی جنس ہے" ۔


یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان، اویخائے ادرعی نے 3 مارچ کی صبح یوہمور سمیت 50 دیگر قصبوں کے باشندوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا ۔


وسیع تر تناظر


یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیل پر سفید فاسفورس استعمال کرنے کے الزامات لگے ہوں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل پہلے بھی غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ ہتھیار استعمال کرنے کی دستاویز کر چکے ہیں ۔


خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب علاقے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں تیزی سے بڑھی ہیں، جس کے نتیجے میں لبنان میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں ۔


انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے اتحادی ممالک، خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور جرمنی پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دیں اور شہریوں کو اس تباہ کن ہتھیار سے بچانے کے لیے اقدامات کریں ۔

Comments

Popular posts from this blog

Ethereum Price Weekly Analysis – Can ETH/USD Overcome This?

Did Bitcoin Just Burst? How It Compares to History's Big Bubbles

Iran's IRGC claiming to have launched the "37th wave" of attacks