ایرانی ایٹمی تنصیبات پر زمینی حملہ: ڈیلٹا فورس سے لے کر 82ویں ایئر بورن ڈویژن تک، واشنگٹن میں کس آپشن پر غور ہو رہا ہے
عنوان: ایرانی ایٹمی تنصیبات پر زمینی حملہ: ڈیلٹا فورس سے لے کر 82ویں ایئر بورن ڈویژن تک، واشنگٹن میں کس آپشن پر غور ہو رہا ہے؟
تعارف
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے خفیہ کمروں میں اس وقت ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ اگر صرف فضائی حملے مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو اگلا قدم کیا ہوگا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق جو مہم صرف فضائی حملوں تک محدود رہنی تھی، وہ اب ممکنہ طور پر مزید پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے ۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگی طیارے کسی مضبوط جوہری تنصیب کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن صرف فضا سے حملہ کر کے اس کے مکمل اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اگر فضائی حملہ ناکافی ثابت ہو تو اہداف حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
محدود زمینی کارروائی پر غور
امریکی حکام کے مطابق مکمل جنگ یا ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے بہت بڑی فوجی قوت درکار ہوگی۔ ایران کا رقبہ اور آبادی اس قدر زیادہ ہے کہ بعض امریکی اندازوں کے مطابق وہاں نظام کی تبدیلی کے لیے کم از کم پانچ لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ موجودہ سیاسی حالات میں ایسا قدم انتہائی مشکل اور مہنگا سمجھا جاتا ہے۔
ایک تجزیے کے مطابق، امریکہ زیادہ سے زیادہ 100,000 خصوصی دستے ایران میں زمینی کارروائی کے لیے جمع کر سکتا ہے ۔ اسی وجہ سے واشنگٹن میں زیادہ سنجیدگی سے محدود اور تیز رفتار زمینی کارروائی کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق خصوصی دستے ایران کی اہم جوہری تنصیبات جیسے Natanz Nuclear Facility، Fordow Fuel Enrichment Plant، اصفہان میں موجود جوہری کمپلیکس پر اچانک حملہ کر کے یا تو انہیں تباہ کرنے یا وہاں موجود افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ امریکی نمائندے کے مطابق، ان مقامات کو تباہ کر دیا گیا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے کے لیے زمینی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے ۔
ایک اور اہم ہدف خلیج فارس میں واقع Kharg Island بھی ہو سکتا ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔
"82ویں ایئر بورن ڈویژن" کا ممکنہ کردار
ایسے کسی بھی آپریشن میں امریکی فوج کی مشہور 82nd Airborne Division مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ یونٹ تیز رفتار مداخلت اور فضائی لینڈنگ کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ ڈویژن 18 گھنٹوں کے اندر دنیا کے کسی بھی حصے میں تعینات ہو سکتی ہے اور اس کا بنیادی مشن اہم مقامات پر فوری قبضہ کر کے بعد میں آنے والی فوج کے لیے راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، 82ویں ڈویژن کے تحت ایک بریگیڈ کو لوئزیانا میں ہونے والی مشقوں سے واپس بلا لیا گیا ہے اور اسے شمالی کیرولائنا میں 18 گھنٹوں کے نوٹس پر تعیناتی کے لیے تیار رکھا گیا ہے ۔ یہ اقدام ممکنہ طور پر ائیر فیلڈز پر قبضے یا سفارت خانے کی حفاظت جیسے مشنز کے لیے ہے۔
لیکن حساس جوہری تنصیبات کے اندر کارروائی زیادہ تر خصوصی دستوں کے سپرد کی جاتی ہے، جن میں سب سے نمایاں نام Delta Force کا ہے ۔ یہ یونٹ ایسے مشنز کے لیے تربیت یافتہ ہے جہاں انہیں جوہری مواد یا حساس فوجی سازوسامان کو تلاش کر کے محفوظ کرنا یا تباہ کرنا ہوتا ہے۔
حملے کا ممکنہ طریقہ کار
فوجی ماہرین کے مطابق کسی بھی فضائی لینڈنگ سے پہلے امریکہ کو مکمل فضائی برتری حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے لیے ابتدائی مرحلے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ریڈار مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو میزائلوں اور اسٹیلتھ طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر حملے اور الیکٹرانک جنگ کے ذریعے ایرانی مواصلاتی نظام کو بھی مفلوج کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ایرانی فوج کے لیے فوری ردعمل دینا مشکل ہو جائے۔
بعد ازاں امریکی دستے ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹروں جیسے MH-60 Black Hawk اور Boeing CH-47 Chinook یا MC-130J طیاروں کے ذریعے ہدف کے قریب اتارے جائیں گے اور وہاں سے زمینی پیش قدمی کر کے تنصیبات تک پہنچیں گے۔
ایرانی ردعمل کا خطرہ
ایرانی دفاعی حکمت عملی اس نوعیت کے حملوں کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے پاس مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا زیرِ زمین فوجی ڈھانچہ موجود ہے ۔ ان میں سے کچھ تنصیبات پہاڑوں کے اندر 100 میٹر تک کی گہرائی میں واقع ہیں۔ ایسے میں امریکی دستوں کو مختلف خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے:
· پاسدارانِ انقلاب کے دستوں سے قریبی لڑائی: ایران کے پاس تقریباً 35,000 کی باقاعدہ فوج ہے اور اس کے علاوہ بڑی تعداد میں نیم فوجی دستے ہیں ۔
· ڈرون اور مختصر فاصلے کے میزائل حملے: ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل ہیں جو خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔
· زیر زمین سرنگوں اور بنکروں سے دفاعی کارروائیاں: جیسے کہ اصفہان میں موجود سرنگیں، جنہیں مزید مضبوط کیا جا رہا ہے ۔
· امریکی دستوں کو گھیرنے کی کوشش: اگر لڑائی طویل ہو گئی تو امریکی فورسز کے لیے سب سے بڑا چیلنج محفوظ واپسی (Extraction) ہو سکتا ہے۔
کیا یہ مکمل جنگ کی شروعات ہوگی؟
فی الحال زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کوئی زمینی کارروائی ہوتی بھی ہے تو وہ مختصر اور محدود اہداف تک منحصر ہوگی۔ تاہم بعض فوجی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ واشنگٹن زمینی جنگ کے امکان کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر رہا۔
صدر ٹرمپ نے خود حال ہی میں کہا ہے کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا "ممکن" ہے، لیکن اس کے لیے "بہت مضبوط وجوہات" درکار ہوں گی ۔ دوسری جانب، پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال زمینی جنگ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے
زمینی جنگ کی مشکلات
ایران پر مکمل زمینی حملہ امریکہ کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے :
· رقبہ: ایران کا رقبہ 15 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے (عراق سے چار گنا بڑا)۔
· آبادی: تقریباً 8 کروڑ 80 لاکھ ہے۔
· جغرافیہ: پہاڑی اور دفاع کے لیے موزوں ہے، خاص طور پر زاگرس اور البرز کے پہاڑی سلسلے ۔
· شہری جنگ: بڑے شہروں میں لڑائی طویل اور مہنگی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ طویل مزاحمت ہی جنگ کو واشنگٹن کے لیے انتہائی مہنگا بنا سکتی ہے۔ جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: "کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار کیوں نہیں ڈالتے؟ کیونکہ ہم ایرانی ہیں" ۔
نتیجہ
مختصر یہ کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف کئی آپشنز ہیں، جن میں فضائی حملوں سے لے کر خصوصی دستوں کے ذریعے محدود زمینی کارروائی شامل ہے۔ تاہم، مکمل زمینی حملہ انتہائی مشکل اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ واشنگٹن کون سا راستہ منتخب کرتا ہے اور ایران اس کا کیا جواب دیتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں