تاریخ اشاعت: 13 مارچ 2026 (تازہ ترین اپڈیٹ)
🇮🇷 بن گوریان ہوائی اڈے پر میزائل حملہ
"وعدہ صادق 4" کی 19ویں لہر کی مکمل داستان
بریکنگ · وعدہ صادق 4 · 13 مارچ 2026
⚡ حملے کی مکمل داستان
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے اسرائیل کے مرکزی بین الاقوامی گیٹ وے بن گوریان ہوائی اڈے (Ben Gurion Airport) پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔
یہ حملہ ایران کے جاری کردہ آپریشن "وعدہ صادق 4" (Operation True Promise 4) کی 19ویں لہر میں کیا گیا، جو امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔
اس بلاگ پوسٹ میں ہم اس حملے کی تفصیلات، استعمال ہونے والے ہتھیاروں، نقصان کے دعووں، اسرائیلی ردعمل اور اس کے علاقائی اثرات کا جائزہ لیں گے۔
کلیدی اعدادوشمار تفصیل
⚔️ لہریں 19 لہریں
💀 ہلاکتیں 200+
📉 میزائل صلاحیت میں کمی 86%
⏰ فضائی الرٹ 100+ گھنٹے
⏱️ حملے کی تفصیلات
یہ حملہ 5 مارچ 2026 کی صبح سویرے (طلوع آفتاب سے پہلے) کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کی پبلک ریلیشنز کے مطابق، یہ "امریکی-صیہونی دہشت گردوں" کے خلاف مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن تھا جسے "یا حسن ابن علی" کے مقدس نام سے شروع کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، 3 مارچ سے شروع ہونے والے اس آپریشن کی مختلف لہریں بن گوریان ہوائی اڈے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ 2 مارچ کو بھی اسی ہوائی اڈے پر حملے کی اطلاعات تھیں، جب ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ 5 مارچ کی صبح کے حملے کو 19ویں لہر قرار دیا گیا۔
🚀 استعمال شدہ ہتھیار
خرمشہر-4 میزائل
یہ میزائل اس حملے کی مرکزی طاقت تھا۔ یہ سپر ہیوی بیلسٹک میزائل ہے جس کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ 1.5 سے 1.8 ٹن تک دھماکہ خیز مواد لے جا سکتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس کا وارہیڈ 1000 کلوگرام (1 ٹن) وزنی تھا۔
ہائپرسونک میزائل
ایرانی ذرائع کے مطابق، انہوں نے ہائپرسونک میزائل بھی استعمال کیے جو دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔
شاہد-136 ڈرونز
بعض رپورٹس کے مطابق، پہلے شاہد-136 ڈرونز (جسے "چھوٹی موٹر سائیکل" بھی کہا جاتا ہے) بھیجے گئے تاکہ فضائی دفاع کو مصروف رکھا جا سکے اور اس کے بعد میزائل حملے کیے گئے۔
🇮🇷 ایرانی دعوے
پاسداران انقلاب کا مؤقف:
· ہوائی اڈے کو نقصان: ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے میزائل کامیابی سے بن گوریان ہوائی اڈے کی حدود میں گرے، جس سے رن وے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
· فضائی دفاعی نظام کی تباہی: IRGC کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے جدید ریڈار سسٹم تباہ کر دیے ہیں۔
· نیتن یاہو کو نشانہ: ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔
· طویل فضائی الرٹ: ایرانی دعویٰ ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں 100 گھنٹے سے زائد فضائی الرٹ بجتے رہے۔
🇮🇱 اسرائیلی دعوے
IDF اور بین الاقوامی میڈیا:
· میزائل ناکام: IDF کے مطابق، رات کے وقت داغے گئے تمام بیلسٹک میزائلوں کو کثیر التہاجی دفاعی نظام (Arrow-3 اور David's Sling) نے کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
· کھلے علاقے میں گراوٹ: صبح کے وقت داغے گئے ایک میزائل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ ملک کے مرکز میں ایک قصبے کے قریب کھلے علاقے میں گرا۔
· غیر موجود اسکواڈرن: ایرانی دعوے میں "27ویں اسکواڈرن" کا ذکر ہے جو 2010 سے بند ہے۔
· ہوائی اڈے کی بحالی: 5 مارچ 2026 سے اسے محدود پیمانے پر دوبارہ کھول دیا گیا۔
📅 واقعات کی ٹائم لائن
تاریخ واقعہ
22 فروری 🇺🇸🇮🇱 امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں ایرانی سپریم لیڈر سمیت 40 حکام کو ہلاک کر دیا (آپریشن لائنز رور)
2 مارچ 🇮🇷 ایران نے نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
3 مارچ 🇮🇷 وعدہ صادق 4 آپریشن کا آغاز، مختلف لہروں میں حملے
5 مارچ (صبح) 🇮🇷 19ویں لہر میں بن گوریان ہوائی اڈے پر خرمشہر-4 میزائل حملہ
5 مارچ (شام) 🇮🇱 بن گوریان ہوائی اڈہ محدود پیمانے پر دوبارہ کھول دیا گیا
13 مارچ ⚠️ ایران نے ڈیمونا جوہری ری ایکٹر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی
🇺🇸 امریکی اہداف پر حملے
ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک (کویت، بحرین، قطر، عمان) میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
بحرین میں ایمیزون ڈیٹا سینٹر
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں واقع ایمیزون کے علاقائی ڈیٹا سینٹر کو شدید نقصان پہنچایا، جسے امریکی فوجی اور انٹیلی جنس آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں ایمیزون نے اس ڈیٹا سینٹر کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق کی۔
بحری جہاز
ایران نے بحر ہند میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور ایک ڈسٹرائر پر حملے کا بھی دعویٰ کیا۔
CENTCOM کا مؤقف
امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت میں 86 فیصد کمی آئی ہے، کیونکہ ان کے لانچ بیسز کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔
🔮 مستقبل کے خدشات
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں درج ذیل امکانات ہیں:
· ⚠️ ڈیمونا جوہری ری ایکٹر پر حملہ: ایران نے 13 مارچ کو ڈیمونا کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے
· ⚠️ علاقائی جنگ کا پھیلاؤ: اردن، مصر اور ترکی کے شامل ہونے کے امکانات
· ⚠️ تیل کی قیمتوں میں اضافہ: 5 سال کی بلند ترین سطح کا امکان
· ⚠️ سفارتی کوششیں: اقوام متحدہ اور یورپی یونین جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف
📝 اختتامیہ
بن گوریان ہوائی اڈے پر حملہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست فوجی تصادم نے پوری دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اگرچہ دونوں طرف کے دعوے متضاد ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تنازع خطے کے امن و امان کے لیے شدید خطرہ ہے۔ عالمی برادری فوری جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے، لیکن صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
⚠️ انتباہ: ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ 20 مارچ (نوروز) پر بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔
💬 آپ کی رائے؟
اس پوسٹ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ تنازع مزید بڑھے گا؟ کمنٹس میں بتائیں!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں