تعارف:
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 1.89 فیصد بڑھ گئی جبکہ سالانہ مہنگائی کی شرح 6.44 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اہم اضافہ:
· پیٹرول 20.60 فیصد مہنگا ہوا، نئی قیمت 298 روپے فی لیٹر
· ڈیزل 19.54 فیصد مہنگا، نئی قیمت 295 روپے فی لیٹر
· گھی (2.5 کلو) 20 روپے مہنگا، نئی قیمت 565 روپے
· آٹا 15 روپے فی کلو مہنگا، نئی قیمت 115 روپے
· چینی 15 روپے فی کلو مہنگی، نئی قیمت 165 روپے
· چاول 20 روپے فی کلو مہنگے، نئی قیمت 220 روپے
· دالیں 30 روپے فی کلو مہنگی، نئی قیمت 330 روپے
· چکن 50 روپے فی کلو مہنگا، نئی قیمت 500 روپے
وجوہات:
ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل ہونا، ڈالر کی قدر میں اضافہ (1 ڈالر = 285 روپے)، اشیائے خوردنی کی قلت اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں 30 فیصد اضافہ شامل ہیں۔
عوام پر اثرات:
ماہرین معاشیات کے مطابق اوسط گھریلو بجٹ میں ماہانہ 5,000 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ متوسط طبقہ شدید پریشان ہے جبکہ غریب خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہے۔ علاج معالجہ بھی مہنگا ہو گیا ہے۔
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ "حکومت کو فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔"
نتیجہ:
مہنگائی کی اس نئی لہر نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں