آپریشن غضب للحق: پاک افغان جنگ کی مکمل تفصیلات (13 مارچ 2026)
⚔️ آپریشن غضب للحق: پاک افغان جنگ کی مکمل تفصیلات (13 مارچ 2026)
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 26 فروری 2026 کو شروع ہونے والی سرحدی جھڑپیں اب باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ پاکستان نے طالبان کی مسلسل جارحیت اور دہشت گردی کے جواب میں آپریشن غضب للحق شروع کیا، جو بدستور جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12/13 مارچ کی درمیانی شب پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبوں قندھار، پکتیا اور کابل میں دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
✔️ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اب تک 663 طالبان ہلاک، 887 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
✔️ 249 چیک پوسٹیں تباہ، 42 پر قبضہ۔
✔️ 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ۔
✔️ افغانستان میں 65 دہشت گرد ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
🔻 افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حملوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
🔻 طالبان ذرائع کے مطابق ان کی 3 بٹالین اور سیکٹر ہیڈکوارٹر تباہ ہوئے۔
🔻 قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹ تباہ۔
🔻 دو اہم طالبان کمانڈر بسم اللہ اور رستم ہلاک۔
🌍 امریکہ: پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔
🌍 یورپی یونین: افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
🌍 اقوام متحدہ: شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
🌍 روس اور چین: تحمل کا مطالبہ۔
📅 پس منظر
یہ تنازع 21 فروری 2026 کو شروع ہوا جب پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ 26 فروری کو افغان طالبان نے جوابی کارروائی کی تو پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ طالبان افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی کے حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
🔥 حالیہ فضائی حملے
✦ قندھار: تراوو کیمپس، ایئر فیلڈ آئل سٹوریج
✦ پکتیا: شیرِناؤ کیمپ
✦ کابل: 313 کور کا انفراسٹرکچر تباہ
✦ شمالی وزیرستان: دراندازی کی کوشش ناکام
🕊️ "طورخم سرحد پر زیرو پوائنٹ پر ایک لاش 4 روز سے پڑی رہی۔ قبائلی عمائدین کی کوششوں سے عارضی سیز فائر ہوا تاہم لاش کی شناخت متنازع رہی۔ بعد ازاں دونوں وفود لاش اٹھائے بغیر واپس چلے گئے۔"
— بی بی سی اردو رپورٹ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری ہے اور اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔ پاک فوج نے افغان طالبان کی زیرِ قبضہ پوسٹوں سے روسی ساختہ ہیوی گرنیڈ لانچرز قبضے میں لے لیے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
پاک افغان جنگ 2026 اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور طالبان کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تاہم جنگ بندی کے امکانات فی الحال روشن نہیں۔