نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

To do more or not to do more: ties with US sink to new low

The rocky Pakistan-US relations sank to a new low with the advent of New Year with President Donald Trump accusing Islamabad of ‘lies and deceit’, drawing a strong protest from the government.

In his first tweets of 2018, Trump said Pakistan gave the US nothing but ‘lies and deceit’ and that the country provided safe havens to Afghan ‘terrorists’.
Foreign Minister Khawaja Asif hit back to the outright accusation, saying: “the United States should hold its own people accountable for its failures in Afghanistan.”
Pakistan summons US ambassador over Trump tweet, registers protest
He also spoke to a private TV channel and shared his views on the on-going war against terrorism. “We have already said ‘no more’ to America, so Trump’s ‘no more’ has no importance.”
Referring to Trump’s claim that US gave Pakistan $33 billion in aid, Asif said: “We are ready to give all account for every single penny to America in public.”
Separately, Defence Minister Khurram Dastagir said that Pakistan had cooperated enough with the US in the war against terrorism.
However, he made abundantly clear that the Afghanistan war would not be fought from Pakistan.
Hours later, US Ambassador David Hale was summoned to the Foreign Ministry. Sources said Foreign Secretary Tehmina Janjua lodged strong protest over Trump’s tweet and sought an explanation from the ambassador.
Opposition politicians have also noted with concern further deterioration of the Pakistan-US relations, which have already been strained since Trump took over the office a year ago.
Senior Pakistan Peoples Party (PPP) leader Senator Sherry Rehman stressed the need for Pakistan to have a balanced stance and not be too aggressive in replying to the US.
She said the reason why Washington is being reactive is due to gaps in Pakistan’s foreign policy. “The gaps should be filled. The world can see the lack of governance and is taking advantage of how Pakistan has not responded.”
Rehman, also a former Pakistani ambassador to the US, said the Coalition Support Fund (CSF) has never been counted as aid in any accounting in Pakistan, nor will it be seen as part of assistance.
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leader and former foreign minister Shah Mahmood Qureshi said that matters of foreign policy must not be delivered through social media but should be debated in a proper setting.
US president raps Pakistan in first tweet of 2018
Qureshi said challenges facing Pakistan are not being addressed adequately. “Pakistan has to move forward taking into account its own interests, irrespective of whether it gets US aid or not,” he said.
Omar Waraich, the Amnesty International Deputy Director for South Asia, cautioned the US that there were only two supply routes into Afghanistan, which go through Pakistan and Iran.
However, he questioned how Saudi Arabia, a traditional ally of Pakistan, could see the US pushing Pakistan into the sphere of influence of Iran, Russia and China.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🛢️پٹرول پر 100 روپے سبسڈی 2026: مکمل رہنمائی اور رجسٹریشن کا طریقہ

🛢️ پپٹرول پر 100 روپے سبسڈی 2026: مکمل رہنمائی خطوط اور رجسٹریشن کا طریقہ پاکستان حکومت کی پٹرول سبسڈی 2026 کے بارے میں مکمل معلومات۔ اہلیت، رجسٹریشن کا طریقہ، فوائد و نقصانات، اور اکثر پوچھے گئے سوالات۔ تحریر از محمد طارق لیبلز: #پٹرول_سبسڈی #حکومت_پاکستان #موٹر_سائیکل #وزیراعظم_ریلیف #فیول_سبسڈی 📑 فہرست مضامین (TOC) 1. فوری حقائق (Quick Facts) 2. تعارف 3. اہلیت کے معیار 4. رجسٹریشن کا طریقہ کار 5. فوائد و نقصانات 6. اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 7. حتمی ہدایات 📊 فوری حقائق (Quick Facts Box) عنوان تفصیل 💰 سبسڈی کی رقم 100 روپے فی لیٹر 🛵 مستحقین صرف موٹر سائیکل سوار 📅 دورانیہ 3 ماہ (مزید توسیع ممکن) ⛽ زیادہ سے زیادہ 20-30 لیٹر ماہانہ 💵 زیادہ سے زیادہ بچت 3000 روپے ماہانہ 📞 ہیلپ لائن 0800-03000 ✉️ SMS نمبر 9771 🎯 تعارف وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ تاہم یہ کمی صرف ایک ماہ کے لیے ہے۔ اس لیے مستحق افراد کے لیے 100 روپے فی لیٹر کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ سبسڈی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی روزی ر...

توبہ قبول ہونے کی علامات: قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

توبہ قبول ہونے کی علامات 📖 قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی  Meta Description: توبہ قبول ہونے کی علامات کیا ہیں؟ جانئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں 15 سے زائد نشانیاں، توبہ کے شرائط، فوائد، نقصانات، حقیقی واقعات، علمائے کرام کے اقوال، اور مکمل رہنمائی۔ Labels: توبہ، قبولیت کی علامات، اسلامی معلومات، قرآن و حدیث، روحانی اصلاح، گناہوں سے توبہ، استغفار 📌 Quick Facts Box 📚 بنیادی ماخذ قرآن (8 سے زائد آیات)، صحیح احادیث (25 سے زائد) 🕋 شرط اول اخلاص نیت (صرف اللہ کی رضا کے لیے) 🚫 گناہ چھوڑنا فوری طور پر، بغیر کسی تاخیر کے 😢 ندامت دل سے پشیمانی، آنسو اختیاری ہیں 🛑 عزم دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ ⚖️ حقوق العباد معافی لینا یا حق ادا کرنا (اگر ممکن ہو) ⏰ وقت موت سے پہلے، سورج مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے 🤲 قبولیت کی ضمانت شرائط پوری ہوں تو اللہ کا وعدہ ہے 📑 Table of Contents (TOC) 1. تعارف 2. توبہ کے شرائط (شرعی اصول) 3. توبہ قبول ہونے کی 15+ علامات 4. توبہ کے فوائد و نقصانات 5. توبہ کے حقیقی واقعات (صحابہ و سلف) 6. علمائے کرام کے اقوال 7. اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ) 8. حوالہ ...

CM-302 سپرسونک میزائل: پاکستان نیوی کا گیم چینجر | مکمل حقائق اور تجزیہ

🚀 CM-302: پاکستان کا سپرسونک سمندری دفاعی نظام تحریر از محمد طارق  📄 میٹا ڈیٹا (Meta Description) CM-302 پاکستان نیوی کا جدید ترین سپرسونک اینٹی شپ میزائل ہے۔ جانئے اس کی رفتار، رینج، فوائد، نقصانات اور پاکستان کی سمندری دفاعی صلاحیتوں پر اس کے اثرات۔ 📑 فہرست مضامین (Table of Contents - TOC) 1. تعارف 2. Quick Facts Box (فوری حقائق) 3. CM-302 کی تکنیکی خصوصیات 4. فوائد و نقصانات 5. اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ) 6. حوالہ جات 1️⃣ تعارف جدید ٹیکنالوجی، برق رفتاری، اور بے مثال درستگی — یہ وہ تین ستون ہیں جن پر CM-302 میزائل نظام کھڑا ہے۔ پاکستان نیوی نے CM-302 جیسے جدید سپرسونک میزائلوں کو اپنی بحری بیڑے میں شامل کرکے سمندری تحفظ کی نئی تعریف لکھ دی ہے۔ یہ نظام محض ایک ہتھیار نہیں بلکہ روک تھام (Deterrence) اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی بحری قوت کی علامت ہے۔ یہ میزائل بھارتی برہموس میزائل کا مقابلہ کرنے کے لیے حاصل کیا گیا ہے اور اس وقت Type 054A/P (طغرل کلاس) فریگیٹس اور ساحلی لانچروں پر نصب ہے۔ 2️⃣ Quick Facts Box (فوری حقائق) رفتار Mach 2.5 – 3.5 (آواز سے تین گنا تیز) رینج 290 کلو...

اسلام آباد مذاکرات 2026: براہِ راست بات چیت کا آغاز – حقائق، فوائد و نقصانات اور تازہ ترین اپڈیٹ

📢 اسلام آباد مذاکرات: براہِ راست بات چیت کا آغاز – اسلام آباد میں امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال، ایجنڈا، فریقین کے موقف، اور ممکنہ نتائج۔ پاکستان کے کردار اور اہم حقائق پر مبنی تجزیہ۔ لیبلز: #اسلام_آباد_مذاکرات #ایران_امریکہ #پاکستان #براہ_راست_مذاکرات #جوہری_پروگرام #آبنائے_ہرمز #TariqWrites 📦 Quick Facts Box (فوری حقائق) عنوان تفصیل 📍 مقام اسلام آباد، پاکستان 🗓️ تاریخ 11 اپریل 2026ء 🤝 فریقین امریکہ (نائب صدر جے ڈی وینس)، ایران (اسپیکر محمد باقر قالیباف) 🕊️ ثالث پاکستان (وزیراعظم شہباز شریف) 📌 موجودہ مرحلہ براہِ راست مذاکرات (جاری) ⚖️ بنیادی دستاویز ایران کا 10 نکاتی منصوبہ 📑 Table of Contents (TOC) 1. تعارف 2. مذاکرات کے مراحل (اسٹیج بائی اسٹیج) 3. دونوں فریقوں کے فوائد و نقصانات 4. ذیلی ہیڈنگز کے ساتھ تجزیاتی پیراگراف 5. اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ) 6. حوالہ جات 7. تحریر از محمد طارق 1۔  تعارف 🚨 اسلام آباد مذاکرات — تازہ ترین اپڈیٹ: جاری سفارتی مذاکرات کا فریم ورک اب ایک نہایت اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے!!! ابتدائی بالواسطہ بات چیت کے بعد، ا...

700 ملین ڈالر کا امریکی E-3 سینٹری جاسوس طیارہ ایرانی شاہد ڈرون سے تباہ | ایران کا 1450 کلومیٹر دور سے پن پوائنٹ حملہ

📋 فوری حقائق (Quick Facts) ⚡ ✈️ طیارہ: بوئنگ E-3 سینٹری (سیریل 81-0005) 💰 قیمت: 700 ملین امریکی ڈالر 📍 واقعہ مقام: پرنس سلطان ایئر بیس، سعودی عرب 💣 حملہ آور: ایرانی شاہد خودکش ڈرون (Shahid 136) 📡 ریڈار رینج: 400 کلومیٹر ⛽ بغیر ایندھن رینج: 7,000 کلومیٹر (اصل 7,400 کلومیٹر) 🎯 حملہ فاصلہ: 1,450 کلومیٹر (پن پوائنٹ ریڈار پر) 🇺🇸 امریکی بیڑا: 16 طیارے تھے ➜ اب 15 رہ گئے 🔄 کراچی تا سکردو: ≈ 1,450 کلومیٹر (مماثل فاصلہ) 📌 واقعہ: پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہی 💥 27 مارچ 2026 کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات امریکی فضائیہ کا جدید ترین بوئنگ E-3 سینٹری (سینٹری اواکس) جاسوس طیارہ ایرانی ساختہ شاہد 136 خودکش ڈرون سے تباہ ہوگیا۔ یہ طیارہ جس کی مالیت 700 ملین ڈالر تھی، سیریل نمبر 81-0005 کے نام سے رجسٹرڈ تھا۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا اور امریکی فضائیہ کے قیمتی اثاثے کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد امریکی کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایرانی ڈرون نے انتہائی درستی سے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا، جس سے طیارہ اپنی پرواز کی صلاحیت بھی کھو بیٹھا۔ 🛰️ E-3 سینٹری کی خوفن...