Skip to main content

Why Bitcoin's Price Has Continued To Rise In The Face Of High Transaction Fees

The bitcoin price reached new all-time highs on a regular basis this year, but some have pointed to the congestion currently found on the Bitcoin network as a sign that the system will be unable to scale to more users over the long term.
According to BitInfoCharts, the median Bitcoin transaction fee on December 30 was $16.04, and there were a few days where it was more than $30 per day earlier in the month.
These high fees — or the prediction that fees would eventually go much higher — are what led to the creation of Bitcoin Cash, which is a Bitcoin fork that was created over the summer around the same time that the Segregated Witness improvement was locked-in on the Bitcoin network. Bitcoin Cash features a larger block size limit, which increases the supply of block space, but it is also a completely different cryptocurrency network that does not have the level of liquidity or network effects seen in bitcoin.

Litecoin is another cryptocurrency that has long been marketed as a cheaper alternative to Bitcoin. It’s creator originally referred to Litecoin as the silver to bitcoin’s gold.
So why has the bitcoin price continued to rise in the face of less reliable transaction confirmation times and skyrocketing fees when these cheaper alternatives are available?
The Cost of Getting Into Bitcoin as a Store of Value is Still Low
While the use of bitcoin as a medium of exchange was often hyped as the killer use case in the early days of the project’s development (it’s even discussed in the opening section of the whitepaper), the asset has evolved to become viewed more of a store of value — not that the two use cases are mutually exclusive.

Comments

Popular posts from this blog

🛢️پٹرول پر 100 روپے سبسڈی 2026: مکمل رہنمائی اور رجسٹریشن کا طریقہ

🛢️ پپٹرول پر 100 روپے سبسڈی 2026: مکمل رہنمائی خطوط اور رجسٹریشن کا طریقہ پاکستان حکومت کی پٹرول سبسڈی 2026 کے بارے میں مکمل معلومات۔ اہلیت، رجسٹریشن کا طریقہ، فوائد و نقصانات، اور اکثر پوچھے گئے سوالات۔ تحریر از محمد طارق لیبلز: #پٹرول_سبسڈی #حکومت_پاکستان #موٹر_سائیکل #وزیراعظم_ریلیف #فیول_سبسڈی 📑 فہرست مضامین (TOC) 1. فوری حقائق (Quick Facts) 2. تعارف 3. اہلیت کے معیار 4. رجسٹریشن کا طریقہ کار 5. فوائد و نقصانات 6. اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 7. حتمی ہدایات 📊 فوری حقائق (Quick Facts Box) عنوان تفصیل 💰 سبسڈی کی رقم 100 روپے فی لیٹر 🛵 مستحقین صرف موٹر سائیکل سوار 📅 دورانیہ 3 ماہ (مزید توسیع ممکن) ⛽ زیادہ سے زیادہ 20-30 لیٹر ماہانہ 💵 زیادہ سے زیادہ بچت 3000 روپے ماہانہ 📞 ہیلپ لائن 0800-03000 ✉️ SMS نمبر 9771 🎯 تعارف وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ تاہم یہ کمی صرف ایک ماہ کے لیے ہے۔ اس لیے مستحق افراد کے لیے 100 روپے فی لیٹر کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ سبسڈی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی روزی ر...

ایران کا اسرائیل کے کیمیکل زون پر حملہ 2026: تفصیلات، فوائد و نقصانات اور تازہ ترین حقائق

🚀 ایران کا اسرائیل کے کیمیکل زون پر حملہ 2026 ✍️ تحریر از محمد طارق | 📅 30 مارچ 2026 | 🌍 مشرق وسطیٰ تنازع ⚡ فوری حقائق (Quick Facts) 📅 تاریخ حملہ:29 مارچ 2026 📍 مقام:نیوت حوثاو صنعتی زون، بیرسبع، اسرائیل 🎯 ہدف:کیمیکل فیکٹریاں (ADAMA پلانٹ شامل) 💥 حملہ کی قسم:بیلسٹک میزائل / ڈرون 🧑🤝🧑 جانی نقصان:11 زخمی معمولی، 20 کو شاک کی وجہ سے طبی امداد 🔥 ماحولیاتی خطرہ:زہریلے اخراج کا خطرہ، بعد میں مسترد ⚔️ جوابی کارروائی:امریکہ-اسرائیل اسٹیل پلانٹس حملے کے جواب میں 🔥 تعارف: کشیدگی کا نیا باب 29 مارچ 2026ء کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ ایران نے اسرائیل کے جنوبی شہر بیرسبع کے قریب واقع نیوت حوثاو (Neot Hovav) صنعتی زون پر میزائل حملہ کیا۔ یہ زون کیمیکل اور کیڑے مار ادویات کی کئی فیکٹریوں پر مشتمل ہے، جس میں اسرائیلی کیمیکل کمپنی ADAMA کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں بڑی آگ بھڑک اٹھی اور زہریلے مادوں کے رساؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی ماحولیاتی تحفظ کی وزارت نے تصدیق کی کہ کوئی زہریلا اخراج نہیں ہوا۔ یہ کارروائی ایران کی طرف سے ایک روز قبل امریکہ اور...

700 ملین ڈالر کا امریکی E-3 سینٹری جاسوس طیارہ ایرانی شاہد ڈرون سے تباہ | ایران کا 1450 کلومیٹر دور سے پن پوائنٹ حملہ

📋 فوری حقائق (Quick Facts) ⚡ ✈️ طیارہ: بوئنگ E-3 سینٹری (سیریل 81-0005) 💰 قیمت: 700 ملین امریکی ڈالر 📍 واقعہ مقام: پرنس سلطان ایئر بیس، سعودی عرب 💣 حملہ آور: ایرانی شاہد خودکش ڈرون (Shahid 136) 📡 ریڈار رینج: 400 کلومیٹر ⛽ بغیر ایندھن رینج: 7,000 کلومیٹر (اصل 7,400 کلومیٹر) 🎯 حملہ فاصلہ: 1,450 کلومیٹر (پن پوائنٹ ریڈار پر) 🇺🇸 امریکی بیڑا: 16 طیارے تھے ➜ اب 15 رہ گئے 🔄 کراچی تا سکردو: ≈ 1,450 کلومیٹر (مماثل فاصلہ) 📌 واقعہ: پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہی 💥 27 مارچ 2026 کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات امریکی فضائیہ کا جدید ترین بوئنگ E-3 سینٹری (سینٹری اواکس) جاسوس طیارہ ایرانی ساختہ شاہد 136 خودکش ڈرون سے تباہ ہوگیا۔ یہ طیارہ جس کی مالیت 700 ملین ڈالر تھی، سیریل نمبر 81-0005 کے نام سے رجسٹرڈ تھا۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا اور امریکی فضائیہ کے قیمتی اثاثے کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد امریکی کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایرانی ڈرون نے انتہائی درستی سے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا، جس سے طیارہ اپنی پرواز کی صلاحیت بھی کھو بیٹھا۔ 🛰️ E-3 سینٹری کی خوفن...

ایرانی ہیکرز نے 50 اسرائیلی کمپنیوں کو ہیک کرکے ڈیٹا اڑا دیا – حقائق، تجزیہ اور اثرات

 ایرانی ہیکرز نے 50 اسرائیلی کمپنیوں کو ہیک کرکے ڈیٹا اڑا دیا – حقائق، تجزیہ اور اثرات 📅 31 مارچ 2026 | 🔒 سائبر سیکیورٹی 🇮🇷💻 ایرانی ہیکرز نے 50 اسرائیلی کمپنیوں کو ہیک کرکے ڈیٹا اڑا دیا ⚠️ ✍️ تحریر از محمد طارق  📌 کوئک فیکٹس باکس ⚡

1987 میں ٹرمپ کی وائرل ویڈیو: ایران کا تیل چھینو اور جنگ کی پیش گوئی | حقائق و تجزیہ

1987 میں ٹرمپ کی وائرل ویڈیو: ایران کا تیل چھینو اور جنگ کی پیش گوئی | حقائق و تجزیہ 📅 30 مارچ 2026 ⏱️ تجزیہ: آرکائیو فوٹیج کی حقیقت ایران امریکہ کشیدگی کے درمیان 1987 کی ڈونلڈ ٹرمپ کی انٹرویو اور تقریر کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا — جانیے تفصیلات، حقائق، اور موجودہ سیاق و سباق۔ 📌 ویڈیو کی صداقت: کیا خبر درست ہے؟ جی ہاں، 1987 کی ڈونلڈ ٹرمپ کی آرکائیو ویڈیو مکمل طور پر مستند ہے۔ یہ فوٹیج حالیہ دنوں میں ایران-امریکہ کشیدگی کے تناظر میں دوبارہ وائرل ہوئی ہے۔ متعدد بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے CNN, BBC, The New York Times اور ABC News نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔ یہ کلپس دراصل 1987 میں باربرا والٹرز کے انٹرویو اور نیو ہیمپشائر میں پورٹسماؤتھ روٹری کلب میں دی گئی تقریر سے لی گئی ہیں۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کے ایران کے خلاف سخت موقف کے پیش نظر یہ ویڈیو تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے۔ اس ویڈیو کی بھاری تعداد میں شیئرنگ نے سوشل میڈیا پر بحث کو ہوا دی ہے کہ ٹرمپ کا ایران سے متعلق مؤقف چار دہائیوں قبل بھی وہی تھا جو آج ہے۔ لہٰذا خبر کے "درست ہونے" کے حوالے سے کوئی شک نہیں، ...